اہم خبریں

blog-detail-img.jpg

قوموں کی ترقی کا انحصار جلسے جلوس نہیں بلکہ تعلیمی اداروں کے قیام پر ہ

  • Jan 04, 2026
  • Editor: مزمل احمد
  • Views : 58

قوموں کی ترقی کا انحصار جلسے جلوس نہیں بلکہ تعلیمی اداروں کے قیام پر ہے مولانا کبیر الدین فاران مظاہری
(پریس ریلیز، ارریہ) ابو الحسن علی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام مدرسہ نورُالمعارف، مولانا علی میاں نگر، دیا گنج، ضلع ارریہ (بہار) میں گیارہ خوش نصیب طلبہ کی تکمیلِ حفظِ کلامِ اللہ کے موقع پر ایک سادہ مگر پُروقار دستار بندی کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس بابرکت موقع پرعلاقے کے معزز علماء کرام اورذی شعور عوام نے شرکت کی۔تقریبِ دستار بندی کے موقع پر حضرت مفتی علی احمد صاحب دامت برکاتہم کے مبارک ہاتھوں سے حفاظِ کرام کے سروں پر دستارِ فضیلت سجائی گئی۔
استقبالیہ خطاب میں مولانا کبیر الدین فاران مظاہری نے کہا کہ قوموں کی ترقی اور ان کی حقیقی شناخت جلسوں سے نہیں بلکہ مضبوط تعلیمی اداروں کے قیام اور ان کے بہتر نظم و انتظام سے وابستہ ہے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج بڑی بڑی رقمیں وقتی جلسے جلوسوں پر خرچ کر دی جاتی ہیں، حالانکہ ان وسائل کا بہتر اور پائیدار مصرف یہ ہے کہ علاقے میں مدارس کے ساتھ ساتھ اسکول، کالج اور میڈیکل مراکز قائم کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات انتہائی مسرت اور اطمینان کا باعث اور قابل تقلید ہے کہ اس خطے کے لوگ غیرتِ ایمانی کا عملی ثبوت دیتے ہوئے اپنے بچوں کی تعلیمی فیس خود ادا کر کے انہیں دینی اداروں میں علم سکھاتے ہیں، جو دیگر علاقوں کے لیے ایک نمونہ ہے،اس سے بچوں میں غیرت ایمانی کیساتھ اپنے اوقات کو صحیح استعمال کرنے کا مستحکم جذبہ بھی پیدا ہوتاہے۔
صدرِ اجلاس حضرت مفتی محمد علی موسیٰ صاحب نے اپنے خطاب میں حفاظِ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ اُن خوش نصیب افراد میں شامل ہیں جنہیں قرآنِ کریم کی تعلیم و حفظ کی سعادت نصیب ہوئی۔ تعلیم کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کے احکامات اور رسولِ اکرم ﷺ کے اسوہئ حسنہ پر عمل پیرا ہونا ہے۔ انہوں نے ابو الحسن علی ایجو کیشنل اینڈ ویلیفئر ٹرسٹ کے تحت مولانا ارشد کبیر خاقان کی شب و روز کی محنت، تعلیمی خدمات اور ترقیاتی کاموں پر خوشی و اطمینان کا اظہار کیا۔
بنگال کے معروف عالمِ دین اور رفاہی خدمات میں نمایاں مقام رکھنے والی شخصیت حضرت مولانا محفوظ عالم صاحب مالدہی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ قرآنِ کریم ایک ایسی عظیم اور محترم کتاب ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لی ہے، اور جس سینے میں قرآن محفوظ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی دین و دنیا دونوں اعتبار سے حفاظت فرماتا ہے۔
اس اجلاس میں حضرت مفتی انعام الباری، مفتی اطہر قاسمی صاحبان نے شرکت کی، جب کہ نظامت کے فرائض مشہوادیب قاری نیاز احمد صاحب نے انجام دیے۔ اجلاس کا اختتام علاقہ کی معزز ترین ہستی عارف باللہ حضرت ماسٹر بختیارثاقب ہاشمی صاحب کی پُرسوز دعا پر ہوا۔
تقریب کے اختتام پر ورثائے حفاظِ کرام اور شہر کے معزز و معروف تاجروں کی جانب سے پُرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا، جب کہ عوامِ الناس نے ہر حافظِ قرآن کو ہزاروں روپے کے نقد انعامات سے نوازکر طلبہ کی حوصلہ افزائی اور قرآن کریم کی تعلیم کی اہمیت کا عملی ثبوت دیا۔

تازہ ترین خبریں

دیگر تصانیف

امیدوں کا چراغ

مٹی کا چراغ

کہاں گئے وہ لوگ

تذکیر و تانیث

مجلس ادارت

team

سرپرست

حضرت الحاج مولانا کبیر الدین فاران صاحب مظاہری

team

مدیر مسئول

مولانا ارشد کبیر خاقان صاحب مظاہری

team

مدیر

مفتی خالد انور پورنوی صاحب قاسمی