ماہنامہ الفاران
ماہِ جمادی الثانی - ۱۴۴۶
اپنی زندگی کو بامقصدبنائیے!
جناب مفتی خالد انور پورنوی صاحب ،المظاہری جنرل سکریٹری؛رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار
زمین،آسمان،چاند،سورج،ستارے سب آپ کےلئے ہیں،یہ دنیا،اس کی خوبصورتی،اس کی مسکراہٹیں، سب آپ کے فائدے کے لئے بنائی گئی ہیں،لیکن آپ کس کام کے لئے اس دنیامیں بھیجے گئے ہیں،حسن وجمال کی دولت سے آپ کواللہ نے مالامال کیوں کیاہے،تمام مخلوقات میں فضیلت کا مقام آپ کو کیوں ملاہے ؟ اس پر ہمیں غورکرناچاہئیے!
قرآن کریم؛اللہ رب العزت کا کلام ہے،آخری پیغمبر،محمدمصطفی ﷺ پر یہ کلام نازل ہوا ہے ،اور یہ آسمانی آخری کتاب بھی ہے،اب اس کے بعد دوسری کتاب نازل نہیں ہوگی،اس لئے اپنی زندگی کا حل ہمیں اسی میں تلاش کرناچاہئیے،اسی میں ڈھونڈناچاہئیے کہ ہم سب کے خالق، مالک، پروردگار، وپالنہار نے ہمیں اس دنیامیں کیوں بھیجا؟سورۃ المومنون کے آیت نمبر۱۱۵میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:’’ اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ‘‘ تمہارا کیا خیال ہے کہ ہم نے تم کو بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہمارے پاس واپس لائے نہیں جاؤگے ؟یعنی بے کار،مہمل، بے مقصد،فضول تمہاری تخلیق کی ہے!
اس آیت نے اس مسئلہ کو بہت ہی واضح کردیاکہ ہماری پیدا ئش بے مقصد نہیں ہے،ہم یونہی شتر بے مہارکی زندگی گذارنے کے لئے پیدانہیں کئے گئے ہیں،جب چاہیں،جو چاہیں،اپنی خواہشات کے غلام بن کراپنی زندگی کی پٹری کو آگے کی طرف کھینچتے رہیں،من چاہی زندگی گذارناہی کافی سمجھنے لگیں،یہ مقصدِ تخلیق کے خلاف ہے،اسی لئےسورۃ الذاریات،آیت نمبر۵۶میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ ،ہم نے جنات اور انسان کو صرف اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ،اسی لئے انسان وجنات میں اللہ نے ایسی استعداداورصلاحیت موجود رکھی ہے کہ اگروہ چاہیں تو رب کی رضامندی کے مطابق اپنے آپ کو پیش کرسکتے ہیں۔
عبادت کے معنی و مفہوم میں بڑی وسعت ہے،یعنی کوئی بھی کام اللہ کی رضامندی کے بغیر نہیں ہونا چاہئیے، اللہ کی وحدانیت کے اقرار اورنبی کریم ﷺ کی رسالت پر گواہی کے بعد ، آپ ﷺکے تمام احکامات کو ماننا اور اس پر عملی طورپر اپنے آپ کو پیش کرنے کانام عبادت ہے،اور یہی مقصدِ تخلیق ہے ، چلتے ، پھرتے ، اٹھتے،بیٹھے،سوتے،جاگتے ہمہ وقت یہی بات پیش نظر رہے کہ اس مقصدمیں ہم کتنے کامیاب ہیں!
سورۃ العصر،آیت نمبر۱سے ۳ تک کو پڑھئے،اللہ تبارک وتعالیٰ زمانہ کی قسم کھاکرفرمارہے ہیں کہ :انسان بڑے گھاٹے میں ہے ،سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائیں ، نیک عمل کرتے رہیں ، ایک دوسرے کو حق ( پر قائم رہنے ) کی اورصبر کرنے کی تاکید کرتے رہیں ۔قرآن کریم کی اس چھوٹی سی سورۃ نے انسانوں کی کامیابی اور خسارہ سے نکلنے کے لئے چارباتیں ضروری قراردیا، ایمان، عمل، صالح، دوسروں کو حق پر قائم رہنے کی تاکیداور صبرکی تلقین،اگرکسی انسان میں یہ چارباتیں نہیں ،تو وہ ظاہری شکل وصورت میں کتناہی حسین کیوں نہ ہو،دنیاوی مال ودولت کی کتنی بھی فراوانی ہو،وہ انسان آخرت کے اعتبار سے خسارہ اور نقصان میں ہے،اس سورت نے بھی ہمیں ہمارےمقاصد کی طرف رہنمائی فرمادی۔
علامہ شبیراحمدعثمانی ؒ تفسیرشیخ الہند میں لکھتے ہیں: ' 'یعنی انسان کو خسارہ سے بچنے کے لئے چار باتوں کی ضرورت ہے۔ اول خدا اور رسول پر ایمان لائے اور ان کی ہدایات اور وعدوں پر خواہ دنیا سے متعلق ہوں یا آخرت سے، پورا یقین رکھے۔ دوسرے اس یقین کا اثر محض اپنی انفرادی صلاح و فلاح پر قناعت نہ کرے بلکہ قوم و ملت کے اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھے۔ جب دو مسلمان ملیں ایک دوسرے کو اپنے قول و فعل سے سچے دین اور ہر معاملہ میں سچائی اختیار کرنے کی تاکید کرتے رہیں۔ چوتھے ہر ایک کو دوسرے کی یہ نصیحت و وصفت رہے کہ حق کے معاملہ میں اور شخصی و قومی اصلاح کے راستہ میں جس قدر سختیاں اور دشواریاں پیش آئیں یا خلاف طبع امور کا تحمل کرنا پڑے، پورے صبرو استقامت سے تحمل کریں، ہرگز قدم نیکی کے راستہ میں ڈگمگانے نہ پائے۔ جو خوش قسمت حضرات ان چار اوصاف کے جامع ہوں گے اور خود کامل ہو کر دوسروں کی تکمیل کریں گے ان کا نام صفحات دہر پر زندہ جاوید رہے گا۔ اور جو آثار چھوڑ کر دنیا سے جائیں گے وہ بطور باقیات صالحات ہمیشہ ان کے اجر کو بڑھاتے رہیں گے۔ فی الحقیقت یہ چھوٹی سی سورت سارے دین و حکمت کا خلاصہ ہے۔ امام شافعی (رح) نے سچ فرمایا کہ اگر قرآن میں سے صرف یہی ایک سورت نازل کردی جاتی تو (سمجھدار بندوں کی) ہدایت کے لئے کافی تھی ۔
ایک مومن میں،اور غیرمومن میں فرق کیاہے؟مومن وہ ہوتاہے،جس کااللہ پر،یومِ آخرت پر ، نبی کریم ﷺ کی نبوت وسالت اور ختم نبوت پر،آپ کے تمام احکامات وپیغامات پر مکمل یقین ہوتا ہے ، اور اپنی زندگی کو نبی کریم ﷺ کی زندگی کے مطابق پیش کرنے کی سعی پیہم کرتاہے،وہ مسلسل جدوجہد کرتاہے کہ ان کا ہرعمل ، آخری نبی ،محمدعربی ﷺ کے بتائے طریقے کے مطابق ہے یانہیں ہے،مسئلہ خوشی کاہو،یاغمی کا وہ اپنے ہرفیصلے کو اللہ کی رضامندی پر موقوف کرتاہے،وہ کسی بھی حال میں اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا،موقع کوئی بھی ہو،وہ اللہ کی یادمیں مگن رہتاہے ، اسی کو سورۃ النورآیت۳۷میں اللہ تبارک وتعالیٰ اس طرح بیان فرماتے ہیں: رِجَالٌ ۙ لَّا تُلۡہِیۡہِمۡ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءِ الزَّکٰوۃِ ۪ۙ یَخَافُوۡنَ یَوۡمًا تَتَقَلَّبُ فِیۡہِ الۡقُلُوۡبُ وَ الۡاَبۡصَارُ ،وہ یعنی مومن ایسے لوگ ہیں جن کو تجارت اور خرید و فروخت اللہ کو یاد کرنے ، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے غفلت میں نہیں ڈالتی ، وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن دل اور آنکھیں اُلٹ جائیں گی۔یعنی زندگی گذارنےاور ذریعہ معاش کے لئے کام ،کاج، دھندے، بیوپاری، تجارت، کاروبار،اللہ کی یاداور رب کے احکام کی بجاآوری سے انہیں غافل نہیں کرتا،وہ بڑاسے بڑا بیوپاری ہو،یا معمولی قسم کا تاجر،لیکن ہرحالت میں رب کی رضامندی پیش نظررہتی ہے،اسے اس بات کا خوف ہوتاہے کہ ایک دن ہوگاجس میں ہمیں اپنے کئے کا حساب اپنے خداکے سامنے دیناہے!
ایمان واسلام جیسی عظیم الشان دولت کے ساتھ ،اللہ نے ہم پر مزیداحسان فرمایاکہ ہمیں خاتم النبیین ﷺ کی امت میں مبعوث فرمایا،جیساکہ سورہ آل عمران ،آیت نمبر۱۶۴میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡن،اللہ نے احسان کیا ایمان والوں پر جو بھیجا انہی میں کا،ان میں رسول جو پڑھتا ہے ان پر آیتیں اس کی اور پاک کرتا ہے ان کو شرک وغیرہ سے اور سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور کام کی بات اور وہ تو پہلے سے صریح گمراہی میں تھے۔اس آیت کی تفسیرکرتے ہوئے جناب مولانا خالدسیف اللہ صاحب رحمانی لکھتے ہیں: یوں تو آپ ﷺ کی بعثت پوری انسانیت کے لئے اﷲ تعالیٰ کی نعمت عظمی ہے ؛ لیکن مسلمانوں کے لئے یہ دوہری نعمت ہے ؛ کیوں کہ کوئی بھی شیٔ اصل میں نعمت اسی شخص کے حق میں ہوتی ہے ، جس کو اس سے نفع اُٹھانے کی توفیق میسر آتی ہواوررسول اللہ ﷺ کی نبوت سے فائدہ اٹھانے کی توفیق مسلمانوں کو حاصل ہوئی۔
حضرت مولاناعاشق الہی بلند شہریؒ اس آیت کریمہ کی تفسیرمیں بڑی اہم بات لکھتے ہیں:اللہ جل شانہٗ بہت بڑا کریم ہے، صدیوں سے لوگ شرک اور کفر کی دلدل میں پھنسے ہوئے تھے، بجز خال خال چند افراد کے اللہ کے ماننے والے دنیا میں رہے ہی نہ تھے ،جو لوگ اپنے خیال میں اللہ کو مانتے اور جانتے تھے وہ بھی عموماً مشرک تھے، عرب اور عجم سب پر شیاطین کا تسلط تھا،پوری دنیا کفر کی آما جگاہ بنی ہوئی تھی ،ایسے موقعہ پر اللہ جل شانہٗ نے نبی آخر الزمان (ﷺ) کو مبعوث فرمایا، آپ کی ذات گرامی سے تاریکیاں چھٹ گئیں، ایمان کا نور پھیل گیا، لاکھوں افراد جو کفر اور شرک کی وجہ سے مستحق دوزخ ہو چکے تھے انہوں نے اسلام قبول کیا۔ اور وہ خود اور ان کی قیامت تک کی آنے والی نسلیں جو دین اسلام قبول کریں گی وہ سب جتنی بن گئے۔ یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے انسانوں میں سے رسول بھیجا تاکہ وہ قول سے بھی بتائے اور عمل سے بھی کر کے دکھائے اور انہیں کے اندر رہتے ہوئے ان کی اصلاح کرے ان کو اللہ کی آیات بھی سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت بھی سکھلائے اور ان کا تزکیہ بھی کرے یعنی ان کے نفسوں کو صفات رذیلہ اور اخلاق ذمیمہ سے پاک کرے۔
اس قدر احسانِ عظیم کے بعد اب ہماری ذمہ داری کیاہے؟سورۃ البقرہ آیت نمبر۱۱۰میں اللہ تبارک اس کی رہنمائی کررہے ہیں:کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ تم تمام امتوںمیں سب سے بہتربناکر عالم میں بھیجی گئی ہو، اچھے کاموں کا حکم کرتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔علامہ شبیراحمدعثمانیؒ تفسیر شیخ الہند میں لکھتے ہیں: اے مسلمانو ! خدا تعالیٰ نے تم کو تمام امتوں میں بہترین امت قرار دیا ہے اس کے علم ازلی میں پہلے سے ہی یہ مقدر ہوچکا تھا جسکی خبر بعض انبیائے سابقین کو بھی دے دی گئی تھی کہ جس طرح نبی آخرالزماں محمد رسول اللہ (ﷺ) تمام نبیوں سے افضل ہوں گے۔ آپ کی امت بھی جملہ امم و اقوام پر سبقت لے جائے گی کیونکہ اس کو سب سے اشرف واکرم پیغمبر نصیب ہوگا ادوم و اکمل شریعت ملے گی، علوم و معارف کے دروازے اس پر کھول دیئے جائیں گے، ایمان و عمل تقویٰ کی تمام شاخیں اسکی محنت اور قر€بانیوں سے سرسبز و شاداب ہوں گی، وہ کسی خاص قوم و نسب یا مخصوص ملک و اقلیم میں محصور نہ ہوگی بلکہ اس کا دائرہ عمل سارے عالم کو اور انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہوگا۔ گویا اس کا وجود ہی اس لئے ہوگا کہ دوسروں کی خیر خواہی کرے اور جہاں تک ممکن ہو انہیں جنت کے دروازوں پر لاکر کھڑا کر دے۔ ' '
اللہ کی توفیق کے ذریعہ دولتِ ایمان کے بعد دیگرلوگوں کی صلاح وفلاح کےلئے سوچناہماری زندگی کا اہم مقصدہوناچاہئیے،یعنی اپنےآپ کو ایک مبلغ ،اورایک داعی کی حیثیت سے دیگرلوگوں کے سامنے پیش کرناہماری ذمہ داری کا ایک اہم حصہ ہوناچاہئیے،اپنی زبان سے بھی،اپنے عمل سے بھی،اپنے کردارسے بھی ،اپنے بہترین اخلاق کے ذریعہ بھی،دنیاکے سامنے خود کو پیش کیجئے کہ واقعی آپ سب سے بہتراور افضل نبی کے سب سے بہترین امتی ہیں،اور یہی ہماری زندگی کا اہم مقصدہے!
اس آیت نے اس مسئلہ کو بہت ہی واضح کردیاکہ ہماری پیدا ئش بے مقصد نہیں ہے،ہم یونہی شتر بے مہارکی زندگی گذارنے کے لئے پیدانہیں کئے گئے ہیں،جب چاہیں،جو چاہیں،اپنی خواہشات کے غلام بن کراپنی زندگی کی پٹری کو آگے کی طرف کھینچتے رہیں،من چاہی زندگی گذارناہی کافی سمجھنے لگیں،یہ مقصدِ تخلیق کے خلاف ہے،اسی لئےسورۃ الذاریات،آیت نمبر۵۶میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ ،ہم نے جنات اور انسان کو صرف اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ،اسی لئے انسان وجنات میں اللہ نے ایسی استعداداورصلاحیت موجود رکھی ہے کہ اگروہ چاہیں تو رب کی رضامندی کے مطابق اپنے آپ کو پیش کرسکتے ہیں۔
عبادت کے معنی و مفہوم میں بڑی وسعت ہے،یعنی کوئی بھی کام اللہ کی رضامندی کے بغیر نہیں ہونا چاہئیے، اللہ کی وحدانیت کے اقرار اورنبی کریم ﷺ کی رسالت پر گواہی کے بعد ، آپ ﷺکے تمام احکامات کو ماننا اور اس پر عملی طورپر اپنے آپ کو پیش کرنے کانام عبادت ہے،اور یہی مقصدِ تخلیق ہے ، چلتے ، پھرتے ، اٹھتے،بیٹھے،سوتے،جاگتے ہمہ وقت یہی بات پیش نظر رہے کہ اس مقصدمیں ہم کتنے کامیاب ہیں!
سورۃ العصر،آیت نمبر۱سے ۳ تک کو پڑھئے،اللہ تبارک وتعالیٰ زمانہ کی قسم کھاکرفرمارہے ہیں کہ :انسان بڑے گھاٹے میں ہے ،سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائیں ، نیک عمل کرتے رہیں ، ایک دوسرے کو حق ( پر قائم رہنے ) کی اورصبر کرنے کی تاکید کرتے رہیں ۔قرآن کریم کی اس چھوٹی سی سورۃ نے انسانوں کی کامیابی اور خسارہ سے نکلنے کے لئے چارباتیں ضروری قراردیا، ایمان، عمل، صالح، دوسروں کو حق پر قائم رہنے کی تاکیداور صبرکی تلقین،اگرکسی انسان میں یہ چارباتیں نہیں ،تو وہ ظاہری شکل وصورت میں کتناہی حسین کیوں نہ ہو،دنیاوی مال ودولت کی کتنی بھی فراوانی ہو،وہ انسان آخرت کے اعتبار سے خسارہ اور نقصان میں ہے،اس سورت نے بھی ہمیں ہمارےمقاصد کی طرف رہنمائی فرمادی۔
علامہ شبیراحمدعثمانی ؒ تفسیرشیخ الہند میں لکھتے ہیں: ' 'یعنی انسان کو خسارہ سے بچنے کے لئے چار باتوں کی ضرورت ہے۔ اول خدا اور رسول پر ایمان لائے اور ان کی ہدایات اور وعدوں پر خواہ دنیا سے متعلق ہوں یا آخرت سے، پورا یقین رکھے۔ دوسرے اس یقین کا اثر محض اپنی انفرادی صلاح و فلاح پر قناعت نہ کرے بلکہ قوم و ملت کے اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھے۔ جب دو مسلمان ملیں ایک دوسرے کو اپنے قول و فعل سے سچے دین اور ہر معاملہ میں سچائی اختیار کرنے کی تاکید کرتے رہیں۔ چوتھے ہر ایک کو دوسرے کی یہ نصیحت و وصفت رہے کہ حق کے معاملہ میں اور شخصی و قومی اصلاح کے راستہ میں جس قدر سختیاں اور دشواریاں پیش آئیں یا خلاف طبع امور کا تحمل کرنا پڑے، پورے صبرو استقامت سے تحمل کریں، ہرگز قدم نیکی کے راستہ میں ڈگمگانے نہ پائے۔ جو خوش قسمت حضرات ان چار اوصاف کے جامع ہوں گے اور خود کامل ہو کر دوسروں کی تکمیل کریں گے ان کا نام صفحات دہر پر زندہ جاوید رہے گا۔ اور جو آثار چھوڑ کر دنیا سے جائیں گے وہ بطور باقیات صالحات ہمیشہ ان کے اجر کو بڑھاتے رہیں گے۔ فی الحقیقت یہ چھوٹی سی سورت سارے دین و حکمت کا خلاصہ ہے۔ امام شافعی (رح) نے سچ فرمایا کہ اگر قرآن میں سے صرف یہی ایک سورت نازل کردی جاتی تو (سمجھدار بندوں کی) ہدایت کے لئے کافی تھی ۔
ایک مومن میں،اور غیرمومن میں فرق کیاہے؟مومن وہ ہوتاہے،جس کااللہ پر،یومِ آخرت پر ، نبی کریم ﷺ کی نبوت وسالت اور ختم نبوت پر،آپ کے تمام احکامات وپیغامات پر مکمل یقین ہوتا ہے ، اور اپنی زندگی کو نبی کریم ﷺ کی زندگی کے مطابق پیش کرنے کی سعی پیہم کرتاہے،وہ مسلسل جدوجہد کرتاہے کہ ان کا ہرعمل ، آخری نبی ،محمدعربی ﷺ کے بتائے طریقے کے مطابق ہے یانہیں ہے،مسئلہ خوشی کاہو،یاغمی کا وہ اپنے ہرفیصلے کو اللہ کی رضامندی پر موقوف کرتاہے،وہ کسی بھی حال میں اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا،موقع کوئی بھی ہو،وہ اللہ کی یادمیں مگن رہتاہے ، اسی کو سورۃ النورآیت۳۷میں اللہ تبارک وتعالیٰ اس طرح بیان فرماتے ہیں: رِجَالٌ ۙ لَّا تُلۡہِیۡہِمۡ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءِ الزَّکٰوۃِ ۪ۙ یَخَافُوۡنَ یَوۡمًا تَتَقَلَّبُ فِیۡہِ الۡقُلُوۡبُ وَ الۡاَبۡصَارُ ،وہ یعنی مومن ایسے لوگ ہیں جن کو تجارت اور خرید و فروخت اللہ کو یاد کرنے ، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے غفلت میں نہیں ڈالتی ، وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن دل اور آنکھیں اُلٹ جائیں گی۔یعنی زندگی گذارنےاور ذریعہ معاش کے لئے کام ،کاج، دھندے، بیوپاری، تجارت، کاروبار،اللہ کی یاداور رب کے احکام کی بجاآوری سے انہیں غافل نہیں کرتا،وہ بڑاسے بڑا بیوپاری ہو،یا معمولی قسم کا تاجر،لیکن ہرحالت میں رب کی رضامندی پیش نظررہتی ہے،اسے اس بات کا خوف ہوتاہے کہ ایک دن ہوگاجس میں ہمیں اپنے کئے کا حساب اپنے خداکے سامنے دیناہے!
ایمان واسلام جیسی عظیم الشان دولت کے ساتھ ،اللہ نے ہم پر مزیداحسان فرمایاکہ ہمیں خاتم النبیین ﷺ کی امت میں مبعوث فرمایا،جیساکہ سورہ آل عمران ،آیت نمبر۱۶۴میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡن،اللہ نے احسان کیا ایمان والوں پر جو بھیجا انہی میں کا،ان میں رسول جو پڑھتا ہے ان پر آیتیں اس کی اور پاک کرتا ہے ان کو شرک وغیرہ سے اور سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور کام کی بات اور وہ تو پہلے سے صریح گمراہی میں تھے۔اس آیت کی تفسیرکرتے ہوئے جناب مولانا خالدسیف اللہ صاحب رحمانی لکھتے ہیں: یوں تو آپ ﷺ کی بعثت پوری انسانیت کے لئے اﷲ تعالیٰ کی نعمت عظمی ہے ؛ لیکن مسلمانوں کے لئے یہ دوہری نعمت ہے ؛ کیوں کہ کوئی بھی شیٔ اصل میں نعمت اسی شخص کے حق میں ہوتی ہے ، جس کو اس سے نفع اُٹھانے کی توفیق میسر آتی ہواوررسول اللہ ﷺ کی نبوت سے فائدہ اٹھانے کی توفیق مسلمانوں کو حاصل ہوئی۔
حضرت مولاناعاشق الہی بلند شہریؒ اس آیت کریمہ کی تفسیرمیں بڑی اہم بات لکھتے ہیں:اللہ جل شانہٗ بہت بڑا کریم ہے، صدیوں سے لوگ شرک اور کفر کی دلدل میں پھنسے ہوئے تھے، بجز خال خال چند افراد کے اللہ کے ماننے والے دنیا میں رہے ہی نہ تھے ،جو لوگ اپنے خیال میں اللہ کو مانتے اور جانتے تھے وہ بھی عموماً مشرک تھے، عرب اور عجم سب پر شیاطین کا تسلط تھا،پوری دنیا کفر کی آما جگاہ بنی ہوئی تھی ،ایسے موقعہ پر اللہ جل شانہٗ نے نبی آخر الزمان (ﷺ) کو مبعوث فرمایا، آپ کی ذات گرامی سے تاریکیاں چھٹ گئیں، ایمان کا نور پھیل گیا، لاکھوں افراد جو کفر اور شرک کی وجہ سے مستحق دوزخ ہو چکے تھے انہوں نے اسلام قبول کیا۔ اور وہ خود اور ان کی قیامت تک کی آنے والی نسلیں جو دین اسلام قبول کریں گی وہ سب جتنی بن گئے۔ یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے انسانوں میں سے رسول بھیجا تاکہ وہ قول سے بھی بتائے اور عمل سے بھی کر کے دکھائے اور انہیں کے اندر رہتے ہوئے ان کی اصلاح کرے ان کو اللہ کی آیات بھی سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت بھی سکھلائے اور ان کا تزکیہ بھی کرے یعنی ان کے نفسوں کو صفات رذیلہ اور اخلاق ذمیمہ سے پاک کرے۔
اس قدر احسانِ عظیم کے بعد اب ہماری ذمہ داری کیاہے؟سورۃ البقرہ آیت نمبر۱۱۰میں اللہ تبارک اس کی رہنمائی کررہے ہیں:کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ تم تمام امتوںمیں سب سے بہتربناکر عالم میں بھیجی گئی ہو، اچھے کاموں کا حکم کرتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔علامہ شبیراحمدعثمانیؒ تفسیر شیخ الہند میں لکھتے ہیں: اے مسلمانو ! خدا تعالیٰ نے تم کو تمام امتوں میں بہترین امت قرار دیا ہے اس کے علم ازلی میں پہلے سے ہی یہ مقدر ہوچکا تھا جسکی خبر بعض انبیائے سابقین کو بھی دے دی گئی تھی کہ جس طرح نبی آخرالزماں محمد رسول اللہ (ﷺ) تمام نبیوں سے افضل ہوں گے۔ آپ کی امت بھی جملہ امم و اقوام پر سبقت لے جائے گی کیونکہ اس کو سب سے اشرف واکرم پیغمبر نصیب ہوگا ادوم و اکمل شریعت ملے گی، علوم و معارف کے دروازے اس پر کھول دیئے جائیں گے، ایمان و عمل تقویٰ کی تمام شاخیں اسکی محنت اور قر€بانیوں سے سرسبز و شاداب ہوں گی، وہ کسی خاص قوم و نسب یا مخصوص ملک و اقلیم میں محصور نہ ہوگی بلکہ اس کا دائرہ عمل سارے عالم کو اور انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہوگا۔ گویا اس کا وجود ہی اس لئے ہوگا کہ دوسروں کی خیر خواہی کرے اور جہاں تک ممکن ہو انہیں جنت کے دروازوں پر لاکر کھڑا کر دے۔ ' '
اللہ کی توفیق کے ذریعہ دولتِ ایمان کے بعد دیگرلوگوں کی صلاح وفلاح کےلئے سوچناہماری زندگی کا اہم مقصدہوناچاہئیے،یعنی اپنےآپ کو ایک مبلغ ،اورایک داعی کی حیثیت سے دیگرلوگوں کے سامنے پیش کرناہماری ذمہ داری کا ایک اہم حصہ ہوناچاہئیے،اپنی زبان سے بھی،اپنے عمل سے بھی،اپنے کردارسے بھی ،اپنے بہترین اخلاق کے ذریعہ بھی،دنیاکے سامنے خود کو پیش کیجئے کہ واقعی آپ سب سے بہتراور افضل نبی کے سب سے بہترین امتی ہیں،اور یہی ہماری زندگی کا اہم مقصدہے!