ماہنامہ الفاران
ماہِ جمادی الثانی - ۱۴۴۶
خوشحال زندگی کا راز۔والدین کی اطاعت
جناب مولانا ارشد کبیر خاقان صاحب مظاہری،ناظم مدرسہ نور المعارف،مولانا علی میاں نگر،دیا گنج،ضلع ارریہ،بہار، جنرل سکریٹری؛ابوالحسن علی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر ٹرسٹ(پورنیہ)بہار
زندگی بہت ہی خوبصورت اور انمول تحفہ ہے، اس کی اصل خوبصورتی اور رونق والدین کے دم سے ہی ہے، گلاب جیسی خوشبو، سچائی کا پیکر، لازوال محبت و شفقت اور قربانی جیسے الفاظ یکجا ہو جائیں تویہ دو الفاظ بن جاتے ہیں ”ماں اور باپ“ ماں اور باپ کی محبت ٹھاٹھیں مارتے سمندر کے موجوں کی طرح ہی ہوتی ہیں کہ جس میں اولاد کے لئے محبت، تحفظ اور احساس کے جذبے پروان چڑھتے ہیں، ”ماں“ اور”باپ“ کہنے کو تو دو چھوٹے سے الفاظ ہیں، مگر ان دو الفاظ میں کتنی گہرائی ہے ہر کوئی اس گہرائی کو نہیں جان سکتا اور نہ ہی کسی کی اس حد تک رسائی ممکن ہے۔
والدین بہت ہی ناز و نخرے سے اپنی اولاد کی پرورش اور تربیت کے لئے کٹھن مراحل سے گذرتے ہیں، مگر جب اولاد جوان ہوتی ہے تو فراموش کر دیتی ہے، جبکہ آج اگر یہ جوان کھڑا ہے یا بولتا ہے تو ماضی میں والدین کا ہی محتاج تھا جنہوں نے اسے بولنا اور چلنا سکھایا۔
ماں بات کی ایک رات کا بدلہ انسان ساری زندگی چاہ کر بھی نہیں اتار سکتا تو چند پیسے یا ضروریات پوری کر کے اگر یہ اولاد سمجھ لے کہ والدین کے احسان سے سبکدوش ہوگیاتو یہ سراسر غلط ہے۔چونکہ زمانہ میں جہالت اور لا شعوری کی وجہ سے اولاد اپنے فیصلوں میں خودمختار ہونا چاہتی ہے، حالانکہ یہ سراسر گمراہی اور جہالت ہے، کیونکہ والدین کو عمر کا خاصا تجربہ ہوتا ہے، سمجھدار اولاد والدین کے تجربوں سے فائدہ اٹھاتی ہے جبکہ بدقسمت اور نا سمجھ اولاد اپنے فیصلے خود کر کے پایہ تکمیل تک نہیں پہونچ پاتی، اگر اولاد والدین کی رضا اپنے فیصلوں میں شامل کر لیں تو اس سے نہ صرف ان کے فیصلے صحیح ہونگے بلکہ برکت کے ساتھ ساتھ رضائے الٰہی اور خوشنودی بھی زندگی میں شامل ہو جائے گی۔انشا اللہ
اللہ سبحانہ وتعالی قرآن پاک میں اپنے حقوق کے فوراََ بعد والدین کے حقوق کی بات کرتے ہیں: اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں: وقضی ربک الاتعبدوالا ایاہ وبالوالدین احسانا اما یبلغن عندک الکبر احدھما او کلا ھما فلا تقل لھما اف ولا تنھر ھما و قل لھما قولا کریما۔واحفض لھما جناح الذل من الرحمۃ وقل رب الرحما کما ربیانی صغیرا (بنی اسرائیل۔آیۃ۔۳۲۔۴۲۔ (ترجمہ) اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیاہے کہ اس کے سوائے کسی کی عبادت نہ کرو، اور ماں باپ سے نیکی کرو،اگر تیرے سامنے ماں باپ یا ان دونوں میں سے کوئی ایک بوڑھی عمر میں پہونچ جائیں تو انہیں ”اف“ تک نہ کہو،اور نہ ہی ان سے جھڑک کے بات کرو،ان سے حسن و سلوک کے ساتھ پیش آؤ،اور یہ دعا کرو کہ ائے ہمارے رب: ہمارے ماں باپ پر رحم کر جس طرح ہمارے ماں باپ نے بچبن میں ہم پر رحم کیا تھا۔(سورۃ: بنی اسرائیل،آیت ۳۲۔۴۲) اس فرمان خداوندی سے واضح ہوجاتا ہے کہ اگر ماں باپ یا دونوں میں سے کوئی ایک تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہونچ جائیں تو پھر انہیں ”اف“ تک کا کلمہ کہنے کی بھی اجازت نہیں ہے، خواہ تمہیں انکی کوئی بات پسند آئے یا نہ آئے اور خواہ تمہاری طبیعت کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ گزرے مگر آپ انہیں ”اف“ تک نہیں کہہ سکتے، ”اف“ تک نہ کہنے کا معنیٰ یہ کہ تمہاری زبانیں تمہارے والدین کے بارے میں اس حد تک بند ہوجائیں کہ انکی کسی بات پر خفگی اور ناراضگی کا اظہار نہ ہونے پائے اور کبھی ایسا نہ ہو کہ تمہارا پیمانہئ صبر انکے معاملہ میں اس حد تک لبریز ہو جائے کہ تم انہیں جھڑکنے لگویا ان کے ساتھ سختی، درشتی اور تلخی کے ساتھ پیش آؤاور اس طرح ان کی دل شکنی اور دل آزاری ہو۔
یہاں ”اف“ تک نہ کہنے کی حکمت اور معنویت پر غور کرنے کی ضرورت ہے: کہ ایسا کیوں فرمایا گیا؟ عرض ہے کہ: جب بدنی قوت مضمحل اور حواس خمسہ ماؤف ہو نے لگتے ہیں تو انسان میں بے بسی اور بے چارگی کی کیفیت ہوتی ہے، والدین عہد جوانی سے گزر کر بڑھاپے میں داخل ہوتے ہیں تو وہی اولاد جس کو بچپن اور لا شعوری کی عمر میں کھلاتے پلاتے رہے، خون پسینے کی کمائی جس اولاد کی نذر کرتے رہے، جس کے لئے اپنا سکھ چین سب کچھ قربان کیا، جس کی ذرّہ بھر تکلیف انہیں گوارہ نہ تھی، خود کو بھوکھا رکھ کر اپنے منھ سے لقمے نکال نکال کر کھلایااور بن مانگے ضرورت کی ہر چیز میسر کی، اب وہی اولاد جوان ہوتی ہے تو اپنے والدین کو مجبور اور بے بس پاتی ہے، اسے وہ زمانہ یاد نہیں ہوتا کہ یہی وہ والدین تھے جوہر وقت اس کے آگے پیچھے رہتے تھے، بیماری اور تکلیف کی حالت میں رات بھر جاگتے رہتے تھے اور اپنی بساط سے بڑھ کر ہر چیز مہیا کرتے تھے جن کی ان کے بچوں کو ضرورت ہوتی تھی، وہی اولاد بچپن کا زمانہ نکل جانے پر اپنے والدین کے نافرمان اور گستاخ ہو جاتی ہے، اولاد اس دور کو یکسر بھلا دیتی ہے جب اس کے والدین اس کے لئے ہلکان ہوتے تھے اور اس کے آرام و آسائش کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے تھے۔
والدین کے اولاد پر بے شمار حقوق ہیں: چند حقوق تحریر کرنا مناسب سمجھتا ہوں: (۱)وقت پر انہیں کھانا کھلانا(۲)ان کی خدمت کرنا(۳)جب وہ بلائیں تو ان کے پاس جانا(۴)اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کے علاوہ ان کے حکم کی اطاعت کرنا(۵)ان کی ساتھ ہمیشہ نرمی سے گفتگو کرنا(۶)اگر انہیں لباس کی ضرورت ہو تو حسب استطاعت انہیں لباس پہنانا(۷)جس ساتھ چلیں تو ان کے بیچھے چلنا(۸)ان کے لئے وہی پسند کرنا جو خود کے لئے پسند ہو(۹)خاص طور پرجب اپنی ذات کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگا میں التجا کرے تو اپنے والدین کی بخشش کی بھی دعا کرنا۔ وغیرہ
والدین کا حق سپاس ادا کر نے کی اگر کوئی صورت ہے تو وہ یہ ہے کہ اولاد بارگاہ خداوندی میں بعجزونیازان کی مغفرت اور بخشش کے لئے بتدریج دعائیں کرتا رہے اور عرض کرتا رہے کہ ائے خدا وند کریم: میرے ماں باپ نے مجھے پالا، پرورش کی، تکلیفیں برداشت کیں اور میں انکا صلہ قیامت تلک ادا کرنے سے قاصر ہوں، تو ان پر اپنا در رحمت کشادہ فرما، ان پراپنی عنایات اور رحمتوں کی بارش فرماں۔فرمان خداوندی ہے: ”ان اشکر لی ولوالدیک“ میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرو۔معلوم ہوا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اپنے والدین کا شکریہ ادا نہ کیا تو اس کا شکر قبول نہیں کیا جائیگا۔اسی لئے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ اللہ تبارک و تعالی کی رضامندی والدین کی رضامندی میں ہے اور اللہ تبار و تعالی کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے۔
والدین کے ساتھ حسن سلوک سے متعلق حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاکہ: عند اللہ سب سے زیادہ محبوب عمل کون سا ہے؟آپ نے فرمایا: پنجگانہ نمازوں کو اپنے وقت پراہتمام کے ساتھ ادا کرنا، میں نے عرض کیا پھر؟ تو فرمایا: والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کرنا، میں نے تیسری مرتبہ سوال کیا کہ اس کے بعد کون سا عمل مقبول ترین ہے؟ تو فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ۔(صحیح بخاری)
والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کمال ایمان کی دلیل ہے، والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک سے عمر اور مال و اولاد میں برکت ہوتی ہے،دیکھنے والے اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ جس نے اپنے ماں باپ کو خوش رکھا، ان کی ہر طرح سے خدمت کی اور اس کو اپنی سعادت مندی جانااور مرتے وقت اس کے والدین اس سے خوش تھیایسے لوگ والدین کی دعاؤں کی برکت سے خوشحال زندگی گذار رہے ہیں، ان کے مال و دولت میں برکت اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اولاد صالحہ سے نوازا ہے۔اس کے بر عکس ہم جیسے والدین کے نافرمان بھی موجود ہیں، و الدین کی بددعا سے جن کی دنیا و آخرت دونوں جہاں تاریک ہو چکے ہیں اور دوسروں کے لئے نشان عبرت بنے ہوئے ہیں۔
آجکل ہم اپنے والدین کی نافرمانیوں میں مشغول ہیں، ہم کو چاہئے کہ والدین کے مخدوم بن کر دنیا و آخرت سنوار لیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق بخشے۔آمین یا رب العالمین۔
والدین بہت ہی ناز و نخرے سے اپنی اولاد کی پرورش اور تربیت کے لئے کٹھن مراحل سے گذرتے ہیں، مگر جب اولاد جوان ہوتی ہے تو فراموش کر دیتی ہے، جبکہ آج اگر یہ جوان کھڑا ہے یا بولتا ہے تو ماضی میں والدین کا ہی محتاج تھا جنہوں نے اسے بولنا اور چلنا سکھایا۔
ماں بات کی ایک رات کا بدلہ انسان ساری زندگی چاہ کر بھی نہیں اتار سکتا تو چند پیسے یا ضروریات پوری کر کے اگر یہ اولاد سمجھ لے کہ والدین کے احسان سے سبکدوش ہوگیاتو یہ سراسر غلط ہے۔چونکہ زمانہ میں جہالت اور لا شعوری کی وجہ سے اولاد اپنے فیصلوں میں خودمختار ہونا چاہتی ہے، حالانکہ یہ سراسر گمراہی اور جہالت ہے، کیونکہ والدین کو عمر کا خاصا تجربہ ہوتا ہے، سمجھدار اولاد والدین کے تجربوں سے فائدہ اٹھاتی ہے جبکہ بدقسمت اور نا سمجھ اولاد اپنے فیصلے خود کر کے پایہ تکمیل تک نہیں پہونچ پاتی، اگر اولاد والدین کی رضا اپنے فیصلوں میں شامل کر لیں تو اس سے نہ صرف ان کے فیصلے صحیح ہونگے بلکہ برکت کے ساتھ ساتھ رضائے الٰہی اور خوشنودی بھی زندگی میں شامل ہو جائے گی۔انشا اللہ
اللہ سبحانہ وتعالی قرآن پاک میں اپنے حقوق کے فوراََ بعد والدین کے حقوق کی بات کرتے ہیں: اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں: وقضی ربک الاتعبدوالا ایاہ وبالوالدین احسانا اما یبلغن عندک الکبر احدھما او کلا ھما فلا تقل لھما اف ولا تنھر ھما و قل لھما قولا کریما۔واحفض لھما جناح الذل من الرحمۃ وقل رب الرحما کما ربیانی صغیرا (بنی اسرائیل۔آیۃ۔۳۲۔۴۲۔ (ترجمہ) اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیاہے کہ اس کے سوائے کسی کی عبادت نہ کرو، اور ماں باپ سے نیکی کرو،اگر تیرے سامنے ماں باپ یا ان دونوں میں سے کوئی ایک بوڑھی عمر میں پہونچ جائیں تو انہیں ”اف“ تک نہ کہو،اور نہ ہی ان سے جھڑک کے بات کرو،ان سے حسن و سلوک کے ساتھ پیش آؤ،اور یہ دعا کرو کہ ائے ہمارے رب: ہمارے ماں باپ پر رحم کر جس طرح ہمارے ماں باپ نے بچبن میں ہم پر رحم کیا تھا۔(سورۃ: بنی اسرائیل،آیت ۳۲۔۴۲) اس فرمان خداوندی سے واضح ہوجاتا ہے کہ اگر ماں باپ یا دونوں میں سے کوئی ایک تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہونچ جائیں تو پھر انہیں ”اف“ تک کا کلمہ کہنے کی بھی اجازت نہیں ہے، خواہ تمہیں انکی کوئی بات پسند آئے یا نہ آئے اور خواہ تمہاری طبیعت کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ گزرے مگر آپ انہیں ”اف“ تک نہیں کہہ سکتے، ”اف“ تک نہ کہنے کا معنیٰ یہ کہ تمہاری زبانیں تمہارے والدین کے بارے میں اس حد تک بند ہوجائیں کہ انکی کسی بات پر خفگی اور ناراضگی کا اظہار نہ ہونے پائے اور کبھی ایسا نہ ہو کہ تمہارا پیمانہئ صبر انکے معاملہ میں اس حد تک لبریز ہو جائے کہ تم انہیں جھڑکنے لگویا ان کے ساتھ سختی، درشتی اور تلخی کے ساتھ پیش آؤاور اس طرح ان کی دل شکنی اور دل آزاری ہو۔
یہاں ”اف“ تک نہ کہنے کی حکمت اور معنویت پر غور کرنے کی ضرورت ہے: کہ ایسا کیوں فرمایا گیا؟ عرض ہے کہ: جب بدنی قوت مضمحل اور حواس خمسہ ماؤف ہو نے لگتے ہیں تو انسان میں بے بسی اور بے چارگی کی کیفیت ہوتی ہے، والدین عہد جوانی سے گزر کر بڑھاپے میں داخل ہوتے ہیں تو وہی اولاد جس کو بچپن اور لا شعوری کی عمر میں کھلاتے پلاتے رہے، خون پسینے کی کمائی جس اولاد کی نذر کرتے رہے، جس کے لئے اپنا سکھ چین سب کچھ قربان کیا، جس کی ذرّہ بھر تکلیف انہیں گوارہ نہ تھی، خود کو بھوکھا رکھ کر اپنے منھ سے لقمے نکال نکال کر کھلایااور بن مانگے ضرورت کی ہر چیز میسر کی، اب وہی اولاد جوان ہوتی ہے تو اپنے والدین کو مجبور اور بے بس پاتی ہے، اسے وہ زمانہ یاد نہیں ہوتا کہ یہی وہ والدین تھے جوہر وقت اس کے آگے پیچھے رہتے تھے، بیماری اور تکلیف کی حالت میں رات بھر جاگتے رہتے تھے اور اپنی بساط سے بڑھ کر ہر چیز مہیا کرتے تھے جن کی ان کے بچوں کو ضرورت ہوتی تھی، وہی اولاد بچپن کا زمانہ نکل جانے پر اپنے والدین کے نافرمان اور گستاخ ہو جاتی ہے، اولاد اس دور کو یکسر بھلا دیتی ہے جب اس کے والدین اس کے لئے ہلکان ہوتے تھے اور اس کے آرام و آسائش کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے تھے۔
والدین کے اولاد پر بے شمار حقوق ہیں: چند حقوق تحریر کرنا مناسب سمجھتا ہوں: (۱)وقت پر انہیں کھانا کھلانا(۲)ان کی خدمت کرنا(۳)جب وہ بلائیں تو ان کے پاس جانا(۴)اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کے علاوہ ان کے حکم کی اطاعت کرنا(۵)ان کی ساتھ ہمیشہ نرمی سے گفتگو کرنا(۶)اگر انہیں لباس کی ضرورت ہو تو حسب استطاعت انہیں لباس پہنانا(۷)جس ساتھ چلیں تو ان کے بیچھے چلنا(۸)ان کے لئے وہی پسند کرنا جو خود کے لئے پسند ہو(۹)خاص طور پرجب اپنی ذات کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگا میں التجا کرے تو اپنے والدین کی بخشش کی بھی دعا کرنا۔ وغیرہ
والدین کا حق سپاس ادا کر نے کی اگر کوئی صورت ہے تو وہ یہ ہے کہ اولاد بارگاہ خداوندی میں بعجزونیازان کی مغفرت اور بخشش کے لئے بتدریج دعائیں کرتا رہے اور عرض کرتا رہے کہ ائے خدا وند کریم: میرے ماں باپ نے مجھے پالا، پرورش کی، تکلیفیں برداشت کیں اور میں انکا صلہ قیامت تلک ادا کرنے سے قاصر ہوں، تو ان پر اپنا در رحمت کشادہ فرما، ان پراپنی عنایات اور رحمتوں کی بارش فرماں۔فرمان خداوندی ہے: ”ان اشکر لی ولوالدیک“ میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرو۔معلوم ہوا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اپنے والدین کا شکریہ ادا نہ کیا تو اس کا شکر قبول نہیں کیا جائیگا۔اسی لئے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ اللہ تبارک و تعالی کی رضامندی والدین کی رضامندی میں ہے اور اللہ تبار و تعالی کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے۔
والدین کے ساتھ حسن سلوک سے متعلق حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاکہ: عند اللہ سب سے زیادہ محبوب عمل کون سا ہے؟آپ نے فرمایا: پنجگانہ نمازوں کو اپنے وقت پراہتمام کے ساتھ ادا کرنا، میں نے عرض کیا پھر؟ تو فرمایا: والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کرنا، میں نے تیسری مرتبہ سوال کیا کہ اس کے بعد کون سا عمل مقبول ترین ہے؟ تو فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ۔(صحیح بخاری)
والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کمال ایمان کی دلیل ہے، والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک سے عمر اور مال و اولاد میں برکت ہوتی ہے،دیکھنے والے اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ جس نے اپنے ماں باپ کو خوش رکھا، ان کی ہر طرح سے خدمت کی اور اس کو اپنی سعادت مندی جانااور مرتے وقت اس کے والدین اس سے خوش تھیایسے لوگ والدین کی دعاؤں کی برکت سے خوشحال زندگی گذار رہے ہیں، ان کے مال و دولت میں برکت اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اولاد صالحہ سے نوازا ہے۔اس کے بر عکس ہم جیسے والدین کے نافرمان بھی موجود ہیں، و الدین کی بددعا سے جن کی دنیا و آخرت دونوں جہاں تاریک ہو چکے ہیں اور دوسروں کے لئے نشان عبرت بنے ہوئے ہیں۔
آجکل ہم اپنے والدین کی نافرمانیوں میں مشغول ہیں، ہم کو چاہئے کہ والدین کے مخدوم بن کر دنیا و آخرت سنوار لیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق بخشے۔آمین یا رب العالمین۔